Wednesday, December 26, 2012

زمانہ قدیم میں طریقہ علاج Ancient Medicine


زمانہ قدیم میں طریقہ علاج 
Ancient Medicine
سائنس کی ترقی و ترویج سے پہلے جب ذہنِ انسانی بہت پختہ نہیں ہوا تھا طرزِ زندگی سادہ اور افکار و خیالات زیادہ تر توہمات پر مبنی ہوا کرتے تھے۔ اس دور میں بھی لوگوں میں شفا طلبی اور بیماریوں سے بچنے کے لیے حفظِ ما تقدم اور احتیاطی تدابیر کا شعور موجود تھا۔ طب کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اسے عام طور سے تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
۱ طب ما قبل سائنس
۲ طبِ قدیم
۳ طبِ جدید
سائنس سے پہلے طب کسی خاص اصول کی پابند نہیں تھی۔ لوگ عام طور پر بیماریوں کی وجوہات کو جادوئی اور زہریلے اثرات میں تلاش کیا کرتے تھے۔ اس کی وجہ ان کا طرز زندگی تھا۔ اس دور میں کیے جانے والے علاج زیادہ تر تو تعویذ گنڈے کے ذریعے سے ہوتے تھے۔ لیکن حرارت اور ٹھنڈک پہنچا کر،، مالش کے ذریعے یا اخراج خون کے ذریعے بھی علاج کیا جاتا تھا۔ کچھ معالجین نباتات اور نمکیات سے بھی کام لیتے تھے۔ سائنس سے پہلے طب کے تین بڑے مآخذ تھے۔
۱ مصری طب
۲ حمورابی طب
۳ ہندی طب
۱ مصری طب
قدیم طریقہ علاج میں مصری طب کو بہت زیادہ شہرت تھی۔ اس می زیادہ تر علاج تعویذ گنڈوں کے ذریعے کیا جاتا اور معالجین بھی زیادہ مندروں کے ایسے پجاری ہوا کرتے تھے جنہیں علمِ طب میں تھوڑی بہت سوجھ بوجھ بھی ہوا کرتی تھی۔ اس طریقہ علاج میں زیادہ زور صفائی اور غذا پر دیا جاتا۔ قے آور اور دست آور ادویات کا استعمال مہینے میں تین بار لازمی ہوا کرتا تھا۔ یہ لوگ علاج کے لیے مرہمیں، نمک، شہد، صنوبر کا تیل، درختوں کی چھال، نیلا تھوتھا، پھٹکڑی اور بعض جانوروں کے بھیجے، جگر، قلب اور خون بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
۲ حمورابی طب
اسے دجلہ و فرات کی طب بھی کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج میں انسانی جگر کو مرکزی عضو کی حیثیت حاصل تھی۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بیماریاں جسم میں جن بھوت، یا بلاؤں کے ذریعے داخل ہوتی ہیں۔ اسی طرح ان کا علاج بھی انہی کی طرز پر کیا جاتا تھا۔ یعنی تعویذ کنڈے وغیرہ۔ اس طریقہ علاج میں ابتدائی علم الابدان شامل تھا۔ اس کے ساتھ بیشتر ادویات بھی شامل کی جاتیں تھیں جو کہ صنوبر، تارپین، السی، ارنڈی کا تیل، انجیر پودینہ وغیرہ کثرت سے استعمال کروائی جاتی تھیں۔ 
۳ ہندی طب
اس طریقہ علاج میں بیماریوں کے اسباب کو دیوی دیوتاؤں کی ناراضگی خیال کیا جاتا تاہم علاج نباتاتی طریقہ سے کیا جاتا تھا۔ مشہور قدیم ہندی طبیب چراکا اور سسروتہ کو سینکڑوں جڑی بوٹیوں اور ادویاتی پودوں کے خواص اور اثرات کا علم تھا۔


ذیابیطس کی دریافت کا سہرا بھی ہندی اطبا کے سر جاتا ہے پہلے پہل انہوں نے ہی یہ مشاہدہ کیا کہ ذیابیطس کے مریضوں کے پیشاب کے پاس مکھیاں جمع ہو جاتی ہیں۔ علم جراحی ہڈیوں کے جوڑنے کا بھی قدیم ہندی اطبا کو بہت وسیع علم تھا۔ ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے یہ لوگ بانس کی لکڑی استعمال کیا کرتے تھے۔ ہڈیوں کو جوڑنے کا یہ روایتی طریقہ اس زمانے میں بھی برصغیر پاک و ہند میں مروج ہے۔

Friday, October 5, 2012

Alzheimer's Introduction and Solutions




 Alzheimer's Introduction and Solutions



Alzheimer's is a head disease that is caused by a decline in memory. This memory loss damages the usual workability of brain and results in often mistakes of unreasonable nature. Forgetting the recent got knowledge, asking again and again for the same information and incapability of remembering events, dates and menus, can be the primary symptoms of the disease. Alzheimer's patient start facing trouble in solving the problems and making decisions, they take more than prescribed time to follow the plans. They make often errors in the accounts balances. They face difficulty to apply mind in depths details. They feel it problematic to drive some specific places or saying some specific words or phrases. At some top levels of memory loss they may forget whether where they were and why? This may be for the time being. A disorder in determining, imagining, judging and feeling the measurements, scenes, people and colours and odours is also a vivid symptom. People with Alzheimer's are troubled during the conversations with fumbling for proper words or for attention even. They place things on improper places and forget them and are unable to find them back. They forget to repair their appearance sometimes. They make irrational decisions. At last patient starts avoiding himself from his social activities and mixing up with people. One can observe frequent mood changes in Alzheimer’s patients. They feel anxious, confused, fearful and depressed at times.

Alzheimer’s is called MALIKHOLIA (مالیخولیا) in Tibb-e-Unani (the ancient Greek medical science). It is defined as multiple disorders in process of thinking. This is caused due to the domination of SAUDA cold and dry element in the blood. It is curable and many of the patients have got health through careful treatments. Hundreds of NUSKHAS prescribed by famous medical scientists of the history are safe in the books few of which after a great deal of selection has applied to the patients after collecting results some of them are modified in accordance with the demands of contemporary industrial atmosphere. There is no need to hospitalize the patient only regular treatment can repair the mind cells and circulation of blood therein.
 Send mails for details: tibbeunaani@gmail.com

Saturday, August 25, 2012

ہیضہ، یرقان اور بد ہضمی کے خلاف احتیاطی تدابیر


آنے والے دو ڈھائی مہینے معدے اور جگر کے فعل کے حوالے سے خاص احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔ ذرا سی بد پرہیزی یا بے احتیاطی خدا نخواستہ خطرناک بیماریوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔ موسم سرما کے آنے تک مندرجہ ذیل تدابیر پر عمل کرنا انسان کو اس موسم میں لاحق ہونے والی ممکنہ بیماریوں سے بچا لیتا ہے۔ انشااللہ العزیز
پانی فلٹر کر کے اور ابال کر پیئیں۔ پانی کو کپاس سے فلٹر کیا جا سکتا ہے۔
سبز مرچ ہیضہ ہونے سے بچاتی ہے لیکن اس کی بہت کم مقدار بھی بہت زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ ایک دن میں ایک درمیانے سائز کی آدھی یا چوتھا حصہ سبز مرچ کا استعمال کافی ہوتا ہے۔
اس موسم میں معدے پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ یعنی تھوڑا تھوڑا کھانا چاہیے۔ ایک وقت کے کھانے کی مقدار کو کم کر دیں۔ چاہے دن میں چار یا پانچ بار ہی کھائیں مگر تھوڑا تھوڑا کھانا صحت کو قائم و دائم رکھتا ہے۔
سرد تر مزاج کی غذائیں اس موسم کی مناسبت سے بہت مفید ہوتی ہیں یہ لحمیات، چکنائیوں اور نشاستوں کو ہضم کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔
اس موسم میں گوشت اور دالوں کے ساتھ لیموں یا اچار کا استعمال کرنا، رات کے کھانے کے بعد سونف چبانا اور پانی زیادہ پینا صحت برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔


Saturday, July 9, 2011

Effective Folk Tips for General Health. حفظان صحت کے دہقانی اصول

ہمارے کسان معاشرے میں ایک پنجابی اکھان مشہور ہے۔ جو اپنی افادیت اور تاثیر کے حوالے سے بے مثال ہے۔
اکھان یہ ہے
چیتر وساکھ بھنویے جھنویے
جیٹھ ہاڑ سنویے
ساون بھدروں ناویے
اسوں کتیں تھوڑا تھوڑا کھاویے
تے حکیم پچھن نہ جاویے
ترجمہ: چیت اور بیساکھ کے مہینے خوب گھومیں پھریں، جیٹھ اور ہاڑ کے مہینے زیادہ سوئیں، ساون اور بھادوں میں زیادہ نہائیں اور اسوج کاتک کے مہینوں میں تھوڑا تھوڑا کھائیں اور حکیم کا پتہ پوچھنے نہ جائیں۔
راقم الحروف نے جب اپنی ایک بزرگ خاتون سے یہ نسخہ سنا تو ان سے سوال کیا کہ اس میں‌ سردیوں کے چار مہینے مگھر، پوہ، ماگھ اور پھاگن شامل نہیں ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان مہینوں میں جو کھائیں وہ تن بدن کو لگتا ہے عمومی طور پر لوگوں کی صحت خراب نہیں ہوتی۔ بہار گرمی اور خزاں کے آٹھ مہینے معدے پر بھاری ہوتے ہیں ہاضمے کی خرابی سارا نظام صحت خراب کرتی ہے۔ راقم الحروف نے صدیوں کے آزمائے اور مانے ہوئے اس قول پر خود کئی سال تک عمل کیا اور صحت پر اس کے بیش بہا مثبت اثرات محسوس کیے۔ آپ بھی آزمائیں اور اپنا صحت کا بجٹ کم کریں۔ ساون کا مہینہ شروع ہونے میں صرف چند دن باقی ہیں۔ دو ماہ تک روزانہ 3/4 بار غسل کریں اور دیکھیں قدرت الہی کے کرشمے۔
خیر اندیش خلائق
ظہیر باقر بلوچ

Friday, July 1, 2011

ہیضہ اور متلی سے بچاؤ کا غذائی سیف گارڈ



ہمارے دوست نوشاد عالم چشتی زمانہ طالب علمی میں مرچ بہت شوق سے کھاتے تھے۔ راقم الحروف جب مرچ کے نقصانات بتاتا تو وہ اس کے فوائد بتاتے۔ ایک دن تازہ سبز مرچ کھانے کے ساتھ تناول فرما رہے تھے کہ میں ان کے کمرے میں جا پہنچا مجھے دیکھتے ہی کہا سبز مرچ کے بیج کا ایک دانہ اگر انسان کی غذا میں شامل ہو تو ہیضہ نہیں‌ ہونے دیتا۔ ان کی اس بات کو میں نے پلے سے باندھ لیا۔ آج اس بات کو بیس سال ہونے کو آئے ہیں میں نوشاد بھائی کی بتائی ہوئی اس بات کی بدولت کبھی ہیضہ کا شکار نہیں ہوا۔ اس مرض کا حملہ اکثر گرمیوں‌ کے موسم میں ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ میں سبز مرچ بہت کھاتا ہوں۔ میں نے سبز مرچ کے بیچ کو ہیضہ کے کنٹرول کی دوا کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہیضہ کی سب سے پہلی علامت یعنی متلی کے ظاہر ہوتے ہی ایک سبز مرچ کاٹ کر اس کا بیج نکالتا ہوں اور منہ میں ڈال کر پانی کے گھونٹ سے نگل لیتا ہوں۔ طبیعت فوری طور پر بحال ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ہیضے کا ایک سیف گارڈ ہے جسے متعدد بار اپنے اور دیگر مریضوں پر آزمایا گیا ہے ہمیشہ اس کے نتیجے میں لوگوں‌ کو ہیضے سے شفائے کاملہ ملی ہے۔ آپ بھی آزمائیں اور میرے حق میں دعائے خیر کریں۔
خیر اندیش خلق
ظہیر باقر بلوچ

Saturday, June 25, 2011

Tibb-e-Unani: Kill Asthma with Olive Oil and Black Pepper

Tibb-e-Unani: Kill Asthma with Olive Oil and Black Pepper: "External Treatment: The big names in the Tibb-e-Unani have advised the patients of Asthma to keep theirs chests oily always specially duri..."

Wednesday, May 25, 2011

Masih ul Mulk Hakim Ajmal Khan (1868-1927)


Hakim Ajmal Khan is considered as one of the 100 great Muslim leaders of the 20th century. He was a visionary and was blessed with some extraordinary qualities which very few people can match. Hakim Ajmal Khan was born in Delhi in I868 in the family of renowned Hakims of Delhi famously known as Khandaan-i-Shareefi. He was the youngest of the three sons of The Great Hakim Ghulam Mahmood Khan, who himself was a legendary figure.

Hakim Ajmal Khan was a living legend, a person of inherent inner beauty, outer grace and dignity; he was a man of exceptional character. His medical works and treatments in different diseases and ailments are so strange that despite being true, at times they seem to be unbelievable.

Hakim Ajmal Khan memorized the Holy Quran (Hafiz) at a very young age and received his education from some of the most highly respected scholars of his time and soon became an authority on Arabic, Persian and Urdu. He later acquired command of the family profession of Tibbe Unani (Herbal Medicines), under expert guidance of his family elders.

History claims of very few multifaceted individuals who were illustrious physicians, theologist, great statesmen, educationists and poets, all woven together. Masih ul Mulk Hakim Ajmal Khan is one of them.

The great poet and philosopher, Allama Sir Mohammed Iqbal, Maulana Abul Kalam Azad and other renowned personalities used to come to meet Hakim Ajmal Khan when ever they visited Delhi. Historians write that hardly a day passed, without there being one important gathering or another, at house of Hakim Ajmal Khan. His Political importance can be gauged by the fact that he was the only political leader of the sub- content who presided the meetings of both the rival parties – The Indian Congress and Muslim League.

He established Ayurvedic & Unani Tibbia College and Jamia Millia Islamia where he also introduced women education, and he launched a program to modernize Unani Medicine and brought about radical changes for the same. In later days to come, he practically gave away all that he earned either to Tibbia College or to Jamia Millia Islamia which were considered to be his two eyes.

As the president of the Khilafat committee he was in constant touch with all the leaders of the Muslim world. Ibn- e- Saud who later acceded the throne of the Kingdom of Saudi Arabia stayed in constant touch with Hakim sahib through correspondence concerning the movement.

He left many students in India and Pakistan. Hakim Hafiz Mohammod Saeed of Hamdrad Karachi and Hakim Sheikh Mohammod Ali Tayyebi of Tayyebi Dawakhana Karachi, were the shining memories of Great Hakim Ajmal Khan.

In short, Hakim Ajmal Khan was famous as the “Uncrowned King” of the Subcontinental.

Sunday, May 15, 2011

A herb is a plant or plant part used for its scent, flavor or therapeutic properties. Tibb-e-Unani (Herbal medicine) products are dietary supplements that people take to improve their health.



Traditional Tibb-e-Unani (Herbal medicine)is going popularity very fast not in a Pakistan but also in all over the world. An increasing number of people are seeking relief from their illness by opting for Herbal medicine. Herbal medicine is one of the oldest and most comprehensive forms of internal medicine and has been practiced for almost 5,000 year. The healing properties of plants and other natural substances is one of biggest contributions to modern to modern medicine. In fact, many pharmaceutical companies have benefited immensely from knowledge acquired from the effectiveness of Herbal medicine. The reason why medicines are gaining popularity is because they offer a natural form of therapy, that is often free of many side-effects. Another benefit in talking
This is famous as Unani mode of Treatment for all diseases. We focus for better health and best possible living standards. The medicines we use are purely based on natural herbs and respectively we claim that the medicines we manufacture have absolutely no side effects. We are working not only as a normal herbal manufacturer but we are working in this profession with a noble for spreading the herbal mode of treatment all over the world. WE provide information on botanical medicine and natural healings.
Herbal medicine is the fact that herbalists have evolved a method in which herbs are combined to enhance the maximum beneficial effects they may provide. Specialists rely on traditional herbal formulas that are designed to treat a wide variety of common imbalances, and every individual will receive a different combination of herbs to suit his own requirements. Medicines also work by creating a balance in the body, by strengthening by supplementing parts that have become weak, or are not functioning at full capacity. The use of natural things to boost the immune system and enhance the functioning of the bodys organs is one of the most effective methods of treatment . Thanks to...: http://www.herbcureclinic.com/tibbe.htm

Saturday, May 14, 2011

A bill passed by Pakistan National Assembly with regard to Tibb-e-Unani


Short title, extent and commencement.—(1)  This Act may be
called the Tibb-e-Unani, Ayurvedic, Homoeopathic, Herbal and other nonAllopathic Medicine Act, 2008
(2) It extends to the whole of Pakistan.
(3) It shall come into force after six months on a date to be notified
by the Federal Government in the official Gazette.
For details visit: http://www.na.gov.pk/private_bills/tibb-e-unani_10062008.pdf

Monday, May 9, 2011

Tibb-e-Unani: سرخ مرچ + کھیرا ایک بہترین ٹانک

Tibb-e-Unani: سرخ مرچ + کھیرا ایک بہترین ٹانک: "سرخ مرچ کے ساتھ اگر کوئی ایسی غذا شامل کر لی جائے جو اس کو گرمی اور خشکی کو جذب کر لے تو یہ ایک بہترین مقوی دوا بن جاتی ہے۔ تجربہ میں آیا..."

Sunday, May 8, 2011

سرخ مرچ + کھیرا ایک بہترین ٹانک




سرخ مرچ کے ساتھ اگر کوئی ایسی غذا شامل کر لی جائے جو اس کو گرمی اور خشکی کو جذب کر لے تو یہ ایک بہترین مقوی دوا بن جاتی ہے۔ تجربہ میں آیا ہے کہ سرخ مرچ کھیرے پر لگا کر روزانہ کھانے سے دل، دماغ اور معدہ کے افعال کی اصلاح ہوتی ہے۔ خون صاف ہوتا ہے رنگت نکھر آتی ہے۔ آدمی کی استعداد کار میں اضافہ ہوتا ہے۔ تھکن قریب نہیں آتی۔ بلغمی دردوں‌ سے نجات ملتی ہے۔ 

Sunday, May 1, 2011

فالج کا علاج ماء العسل سے کریں

ماء العسل شہد کے پانی کو کہتے ہیں۔ قدیم زمانے کے حکماء ماء العسل کو فالج کے علاج کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں طب یونانی اسلامی کے دیگر اصولوں‌ کی طرح‌ اس قدرتی طریقہ علاج کی اہمیت آج بھی اتنی ہی مسلم ہے جتنی کہ زمانہ قدیم میں تھی۔ اس کی تیاری بہت آسان ہے۔ شہد سے دو گنا پانی اس میں ملا کر آگ پر پکائیں جب نصف رہ جائے اتار لیں۔ فالج کے آثار ظاہر ہوتے ہیں ماء العسل پانی کی جگہ پلانا شروع کردینا چاہیے۔ ماء العسل کا استعمال کرنے والے کو فالج نہیں ہوتا کیونکہ یہ بلغمی رطوبتوں‌ کو خشک ہو کر رگوں‌ میں‌ جمنے نہیں دیتا جو فالج کی بیماری کی وجہ ہے۔

فالج کے مریضوں کے لیے بیش بہا تحفہ

سکنجبین حار: 100 ملی لیٹر سرکہ میں‌ 200 ملی لیٹر شہد شامل کر کے اس آمیزے میں 600 ملی لیٹر پانی ڈال کر آگ پر رکھ دیں جب یہ نصف رہ جائے تو آگ سے اتار کر محفوظ کر لیں۔ خوراک۔ دو سے تین چمچ روزانہ۔ فالج کے مریض کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ جسم کو طاقت دیتا ہے۔ نظام ہضم کو بہتر کرتا ہے۔ دل کو تقویت دیتا ہے۔ پیاس کی شدت میں تسکین دیتا ہے۔

Stop Hair Loss with Alternate Natural Remedies

Hair Loss is a major problem nowadays. Hair fall can be stopped by consuming balanced diet and healthy activities. There are numerous natural/herbal remedies for this particular problem. Homeopathic bio chemic salts are most beneficial in this regard. Send mails for details: tibbeunaani@gmail.com or call 03364886396

What is Tibb-e-Unani

Tibb-e-Unani is an ancient system of treatment based on old Greek principles of Medical Science. This system has developed by Muslim Medical Scientists. The most developed form of this system can be observed in Sub Continent Indo Pak which is actually the outcome of the merger of the ancient Greek and ancient Indian system of treatment Ayurveda. According to Greek principles all the human beings, all the food and medicinal stuff is divided into four types. These are: Hot and Moist, Hot and Dry, Cool and Moist and Cool and Dry. Modern Medical Science has divided the human blood with respect to the transfusion and cross matching. Human Blood in accord with the principles of Tibb-e-Unani is comprised of four elements which are called AKHLAT-E-ARBA. They are 1. DAMM (Effect: Hot and Moist. Appearance: Red), 2. SAFRA (Hot and Dry. Yellow), 3. BALGHAM (Cool and Moist. White) and  4. SAODA (Cool and Dry. Black). Every human being on the planet has one of the above mentioned AKHLAAT dominant in his body that determines MIZAJ of the person. Domination of that KHALAT, which causes most of the diseases in that particular body, is controlled with the use of the medicines and foods of adverse effect. Follow the link for more details of that topic. http://tibbeunani.blogspot.com/2011/01/blog-post_17.html

Sunday, April 17, 2011

سال بھر کے لیے بیماریوں‌ سے چھٹکارا پائیں

موسم بہار میں جسم سے فاضل مادوں کے اخراج کا قدرتی عمل وقوع پذیر ہوتا ہے اس عمل کو تیز کرنے کے لیے اس موسم میں فصد کیا جاتا ہے۔ لوگ کڑوی ادویہ، استعمال کرتے ہیں، ملین یعنی Laxative ادویہ کا استعمال کر کے پیٹ کو صاف کیا جاتا ہے۔ پچھنے لگوا کر جسم میں خون کی مقدار کم کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں بیماری پیدا کرنے والے عناصر جسم سے خارج ہوتے ہیں اور انسان سال بھر کے لیے اکثر بیماریوں‌ سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ فصد سے جسم میں عارضی کمزوری ہوتی ہے اس لیے فصد کے بعد نرم مقوی اور زود ہضم غذا کے استعمال سے جسم میں طاقت اور توانائی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔ اس دور میں فصد کا بہترین ذریعہ خون کا عطیہ دینا ہے۔ خون کا عطیہ دینے والوں کے لیے یہ موسم سب سے اچھا ہے۔ خون کا عطیہ دینے کے بعد یخنیوں اور پھلوں کا استعمال کریں۔ اور سال بھر کے لیے بیماریوں‌ سے چھٹکارا پائیں۔

Thursday, January 20, 2011

سکنجبین بارد کی تیاری کا طریقہ

سکنجبین کا نام آتے ہی گرمیوں‌ کے موسم میں لیموں اور چینی سے تیار کیا جانے والا شربت یاد آ جاتا ہے۔ لیکن طب کی زبان میں سکنجبین شہد اور سرکے کے شربت کو کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ دو لفظوں‌ سرکہ اور انگبین کا مجموعہ ہے۔ اس کی تیاری بہت آسان ہے۔ 100 ملی لیٹر شہد میں 200 ملی لیٹر سرکہ شامل کریں اور اس آمیزے میں 600 ملی لیٹر صاف پانی شامل کر کے اس 900 ملی لیٹر آمیزے کو آگ پر چڑھائیں جب نصف یعنی 450 ملی لیٹر رہ جائے اتار کر محفوظ کر لیں۔ ایک یا دو چمچ حسب ضرورت استعمال کریں۔ یہ سکنجبین بارد یعنی سرد کا طریقہ ہے۔ سرد مزاجوں‌ کو سکنجبین حار استعمال کرنی چاہیے اس کے لیے اسی نسخہ میں شہد اور سرکہ کی مقداروں کو بدل دیں۔ تیاری اور استعمال کا طریقہ یہی ہے۔ اگر چند ماہ اس دوا کے ساتھ مداومت کر لی جائے تو جسم میں موجود قریبآ تمام بیماریوں‌ کو ختم کردیتی ہے۔ اعضائے رئیسہ کو تقویت دیتی ہے۔

صفراوی مزاج کی علامات

واضح ہو کہ صفراء کا مزاج گرم خشک اور رنگ زرد ہے اس مزاج کے حامل افراد کو پیاس زیادہ لگتی ہے اور بھوک کم۔ منہ کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ خارش اور قبض بھی بعض اوقات اسی سبب سے ہوتی ہیں۔ ناک، کان اور آنکھ میں خشونت یا کھردرا پن موجود رہتا ہے۔ متلی اور پھریری آتی ہے۔ صفراء کا جتنا زیادہ غلبہ ہوگا اتنی ہی اس کی زرد رنگت جلد، زبان، آنکھ اور قارورہ سے ظاہر ہوگی۔ صفراوی مزاج والے افراد کو گرم اشیاء کے کھانے سے تکلیف اور سرد غذا کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ صفراء کو اعتدال پر لانے کے لیے سکنجبین بارد ایک بہترین غذائی ٹانک کے ساتھ مؤثر دوا بھی ہے۔

Wednesday, January 19, 2011

نسخہ ءِ منظوم برائے ورم جگر

یہ نسخہ حضرت خواجہ غلام فخر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ کے مجموعہ کلام "باب جبریل" سے لیا گیا ہے۔
برائے ورم جگر
لاؤ ہیرا کسیس و افنستین
اور نوشادر مساوی ہوں ہر تین
تین ماشے سفوف کی ہے خوراک
فخر ورم جگر کو دے تسکین

Tuesday, January 18, 2011

دموی مزاج کی علامات

دموی مزاج خون کے غلبہ سے ہوتا اور جیسا کہ کہا گیا ہے کہ خون کا مزاج گرم تر ہوتا ہے۔ اس مزاج کی مخصوص علامات یہ ہیں۔ دموی مزاج والے افراد کا اکثر سر بھاری رہتا ہے۔ انہیں انگڑائی اور جماہی زیادہ آتی ہے۔ ایک گونہ غنودگی ہر وقت طاری رہتی ہے۔ منہ کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ اور جلد کی رنگت سے سرخی ظاہر ہوتی ہے۔ آنکھوں میں بھی سرخ ڈورے نظر آتے ہیں۔ دموی مزاج والوں کے جسم پر پھوڑے پھنسیاں زیادہ نکلتی ہیں۔ مسوڑھوں اور ناک بات بے بات خون جاری ہو جاتا ہے۔ اور جسم میں اکثر درد اور سستی رہتی ہے۔
اس مزاج کے حامل افراد کو بہت جلد غصہ آتا ہے لیکن بہت جلد اتر جاتا ہے۔ یہ عام طور پر خوشامد پسند اور تعاون کرنے والے ہوتے ہیں۔ دموی مزاج والے لوگ اکثر گرم غذاؤں کے سبب بیمار پڑتے ہیں۔ جونہی وہ زیادہ مرچ، مصالحہ والی مرغن غذائیں کھائیں گے ان کی تکالیف میں اضافہ ہوگا اور سرد غذائیں کھانے سے انہیں آسودگی اور آرام پہنچے گا۔ ایسے مزاج والے افراد کو لازم ہے کہ وہ اپنی غذا میں دھنیا اور لیموں کا استعمال کریں یہ جوش خون کو بٹھاتی ہیں اگر خون گاڑھا ہو تو اس کے لیے املی آلو بخارے کا شربت سونف کا پانی اور مائ العسل استعمال کرتے رہنا چاہیے۔